ابنا: سيکڑوں کي تعداد ميں اردني باشندوں نے ملک گير مظاہروں ميں حصہ ليا اور ملک ميں جاري ناانصافيوں اور مالي بدعنوانيوں کي مذمت کرتے ہوئے حکومت کے استعفے اور پارليمنٹ کو تحليل کرديئے جانے کا مطالبہ کيا -
مظاہرين نے اردني حکومت پر ملک ميں سياسي اصلاحات کے نفاذ ميں ناکامي کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کي طرف سے بنيادي آئين ميں اصلاحات سے متعلق پيش کي گئي تجاويز بنيادي اصلاحات کے لئے کافي نہيں ہيں -
اس درميان اردن کے باشندوں نے دارالحکومت امان ميں اسرائيلي سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ کرکے امان ميں اسرائيلي سفارتخانے کو بند اور اسرائيلي سفير کو ملک سے نکال ديئے جانے کا مطالبہ کيا -
مظاہرين نے اسي طرح صہیونيت مخالف نعرے لگاکر اردن ميں فلسطينيوں کے لئے ايک متبادل حکومت کي تشکيل کے منصوبے کي بھي مذمت کي اور انيس سواڑتاليس کے مقبوضہ فلسطيني علاقوں ميں ہي ايک آزاد فلسطيني مملکت کے قيام کي ضرورت پر زورديا - واضح رہے کہ صہیوني ریاست کي پارليمنٹ ميں دائيں بازو سے تعلق رکھنے والے رکن آري الداد نے صہیوني ریاست کي پارليمنٹ ميں ايک بل پيش کرکے غرب اردن اور غزہ کے بجائے اردن کے اندر فلسطینيوں کے لئے ايک متبادل حکومت کي تجويز پيش کي تھي............
/169